26 جون 2013 - 19:30

القاعدہ کے ایک سابق رکن کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جنگ میں مصروف دہشت گرد گروہ النصرہ کا سرغنہ سی آئی اے ایجنٹ ہے۔

ابنا: مصر میں القاعدہ کے تربیتی کیمپ کی قیادت کرنے والے شیخ نبیل نعیم نے ایک حالیہ ویڈیو فوٹیج میں یہ راز فاش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر یقین ہے کہ القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کی حمایت کا اعلان کرنے والے النصرہ گروہ کے رہنما سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں۔نعیم نے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے النصرہ کے عسکریت پسندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ امریکہ کی جانب سے شام میں جنگ لڑ رہے ہیں۔تشدد سے دوری اختیار کرنے والے نعیم نے اس راز سے بھی پردہ اٹھایا کہ القاعدہ کے سربراہ الظواہری امریکی ڈبل ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔دہشت گرد گروہ النصرہ فرنٹ کے سرغنہ ابو محمد جولانی نے 10 اپریل کو الظواہری کی بیعت کا اعلان کیا تھا۔نعیم مصر میں ایک ہائی پروفائل عسکریت پسند تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 1981 میں سابق مصری صدر انور سادات کے قتل میں ملوث تھے۔ فروری 2011 میں مصر کے آمر حسنی مبارک کے سقوط کے بعد انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ، افغانستان میں 18 سال سے القاعدہ کی حمایت اور مالی امداد کر رہا ہے اور ذاتی طور پر وہ خود بھی امریکی سازشوں میں پھنس کر بیوقوف بنتے رہے۔دہشت گرد گروہ النصرہ فرنٹ شام میں اسپتالوں اور اسکولوں سمیت حکومت اور سویلین اداروں میں بم دھماکے کرکے ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جان لے چکا ہے اور وہ بڑے پیمانے پر پر تشدد کارروائیوں میں مصروف ہے۔امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق، گزشتہ سال نومبر کے بعد سے امریکی فوج نے خفیہ طور پر بعض عسکریت پسند گروپوں کو دہشت گردی کی تربیت دی ہے۔غور طلب ہے کہ مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والے بحران میں اب تک سرکاری سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد سمیت ترانوے ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔دمشق کا کہنا ہے کہ ملک میں خونریزی اور تشدد میں مصروف غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی ایک بہت بڑی تعداد غیر ملکی شہریوں پر مشتمل ہے۔مغرب اور اس کے علاقائی اتحادی خاص طور پر قطر، سعودی عرب اور ترکی عسکریت پسندوں کی حمایت کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ، کئی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شام میں سرگرم عسکریت پسند جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔......./169